ابنا: ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران میں جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی تعاون کی وزیر كوانا ماشابانے کے ساتھ ملاقات میں، ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے سلسلے میں اس ملک کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف غیر منصفانہ پالیسیوں کا جاری رہنا ممکن نہیں ہے اور مغربی کمپنیاں اس وقت ایران کے ساتھ تعاون کے معاہدے کر رہی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایران پر پابندی لگانے والے ممالک کے سامنے کئی مسائل کھڑے ہو چکے ہیں، کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، بین الاقوامی قوانین اور قواعد و ضوابط کے نقطہ نظرسے گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ جوہری مذاکرات کو نتیجہ تک پہنچانے کے لئے تیار ہے۔
صدر روحانی نے تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ترقی پذیر ممالک اور دنیا کے لئے پیچیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران، تمام علاقائی اور بین الاقوامی میدانوں میں جنوبی افریقہ کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی، مغربی طاقتوں کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے، کہا کہ یقینی طور پر مستقبل میں مغربی ممالک کو دہشت گرد گروہوں کی طرف سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس ملاقات میں جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی تعاون کی وزیر كوانا ماشابانے نے نسلی تعصب کے خلاف جدوجہد میں جنوبی افریقہ کے عوام کی حمایت کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ تعلقات میں توسیع اور تعاون میں اضافے کا عزم رکھتا ہے۔








.....
/169